مر سوں مرسوں
تقویم احسن صدیقی
موت ، ننگ ، بھوک، پیاس،
جہالت، ڈاکو راج، غنڈہ گردی، بھتہ خوری، قبضہ، پولیس گیری وہ چند بھیانک حقیقتیں
ہیں جو سندھ کے عوام کی عمومی حالت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں. صرف ضلع تھرپارکر
میں امسال پانچ سو کے قریب سسکتے انسان لقمہ اجل بن چکے. اور یہ پانچ سو تو وہ ہیں
جن کی خبر کسی طور باہر آ گیی ، پرائویٹ کلینک اور دور دراز گوٹھہ اس کے علاوہ ہیں
جن کی کوئی گنتی نہیں.صرف گزشتہ اننچاس دنو میں ایک سو ایک بچے تھر میں لقمہ اجل
بن چکے. ضلع
تھرپارکر این جی اوز کی دکان میں تبدیل ہو چکا. انسانیت سسک رہی ہے لیکن سندھ کی
ٹھیکیداری کا دعویٰ کرنے والی یہ باپ بیٹے کی جوڑی بیرون ملک پاکستانیوں کے ہاتھو
اپنی عزت افزائی کروا کر بھی سیر سپاٹوں اور مسخریوں میں مصروف ہے
.
There are Over six Thousand Ghost Schools in Sindh |
More than 400 sham appointments in KU and over 200 illegal up-gradations |
Picture is a Million words |
گدھ کی طرح لاشوں پر
جینے والوں نے اس عظیم خطے کے لوگو کو سواے بھوک، ننگ، کھلی چھت ، بیماری، افلاس،
خوف اور جہالت کے کچھ نہیں دیا. کسب کے لئے نسب بدلنے والے بےحس ٹولے کے محلات کی
فہرست ہے کے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے. گلہ پھاڑ پھاڑ کر چلانے سے نہ
جھوٹ سچ بنتا ہے نہ گیدڑ لیڈر بنتا ہے
.
ہسپتال خستہ حال اور
گھوسٹ بھرتیوں سے بھرے پڑے ہیں. کراچی
سمیت پورے سندھ میں جعلی سندوں پر کئی افراد بیک وقت ایک سے زیادہ جگا بھرتی ہیں.
کوئی ہسپتال میں بھرتی ہو کر کسی سرکاری ادارے میں مالی ہے، کہیں پرائمری سکول
ٹیچر تو کہیں نائب قاصد. حاضری کہیں بھی نہیں. غریب مظلوم عوام ہسپتالوں میں جعلی
دواؤں اور ناکافی بلکہ خستہ ترین حالات میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں. گشتہ کئی دہایوں
کی تاریخ میں سندھ میں پولیو کیسز آسمان سے باتیں کر رہے ہیں. گھوسٹ ڈاکٹروں کی
ایک لمبی فہرست ہے.
نام نہاد پروگریسو جماعت
کا یہ حال ہے کہ ان کی مرکزی رہنما اور بدقسمتی سے سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر جگہ
جگہ مذہبی منافرت پھیلاتی نظر اتی ہیں.اقلیتوں کی صورت حال نہ گفتہ با.
بھٹو کی جماعت کا آج یہ حشر ہے کے سکڑ کے سندھ کے
چند دیہی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گی ہے اور اس کی حیثیت ایک صوبے کی جماعت سے
زیادہ کچھ نہیں.نہ صحت ، نہ تعلیم نہ
تحفظ نہ امن و امان، صرف آپسی گٹھ جوڑ اور عوام کا استحصال. سندھ کے مجبور عوام
بھٹو سے عقیدت کی قیمت اسی بھٹو کے نام لیوا دھاری داروں کو ادا کر رہے
ہیں. وہ بھی شاید صرف اس لئے کے آج تک انہیں کوئی للکارنے والا آیا ہی
نہیں.بندر بانٹ کا یہ عالم ہے کے ایک نے پنجاب پر قبضہ کر لیا ، ایک نے سندھ پر
اور مزید ظلم ایک جماعت دیہی سندھ کی ٹھیکیدار بن بیٹھی اور ایک شہری. شہری علاقے
گینگ وار اور لینڈ مافیا کی نظر ہو گئے، اور دیہی بھوک افلاس، بیماری، جہالت اور
ڈاکو راج کی
.
ان حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کے سندھ کے پسے ہوے لوگوں کے لئے کوئی متبادل سامنے آتا جو پاکستان کے وسائل پر قابض مسائل کی جڑ سٹیٹس کو کی نمائندہ جماعتوں کے آپسی معاہدوں اور مفاہمتوں کے ہوتے ہوۓ ممکن ہی نہیں تھا. تحریک انصاف سے آپ لاکھ اختلاف کریں ، مگر یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اس نے کئی دہایوں کی اس بندر بانٹ کو توڑنے کی بات کی ہے اور تمام صوبوں میں مقبول ایک قومی جماعت کے طور پر سامنے آئ ہے. آج کپتان کی اس جماعت نے سندھ کا رخ کیا ہے اور سندھ کے ٹھیکیداروں کے قلب میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ٹھانی ہے. وہ کامیاب ہوگا یا نہیں، وہ تو اکیس نومبر کو پتا چل ہی جاےگا مگر اس اعلان کے بعد پینترے بازی، ٹھنڈے مزاج، چالاکی شاطری کے لئے شہرت یافتہ زرداری صاحب اور ان کی جماعت کے سرکردہ لیڈران کی بدحواسی قابل دید ہے.
21st November Larkana Jalsa can be a Game changer in Sindh |
No comments:
Post a Comment