Tuesday, 18 November 2014

Marsoon Marsoon



مر سوں مرسوں



تقویم احسن صدیقی




موت ، ننگ ، بھوک، پیاس، جہالت، ڈاکو راج، غنڈہ گردی، بھتہ خوری، قبضہ، پولیس گیری وہ چند بھیانک حقیقتیں ہیں جو سندھ کے عوام کی عمومی حالت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں. صرف ضلع تھرپارکر میں امسال پانچ سو کے قریب سسکتے انسان لقمہ اجل بن چکے. اور یہ پانچ سو تو وہ ہیں جن کی خبر کسی طور باہر آ گیی ، پرائویٹ کلینک اور دور دراز گوٹھہ اس کے علاوہ ہیں جن کی کوئی گنتی نہیں.صرف گزشتہ اننچاس دنو میں ایک سو ایک بچے تھر میں لقمہ اجل بن چکے. ضلع تھرپارکر این جی اوز کی دکان میں تبدیل ہو چکا. انسانیت سسک رہی ہے لیکن سندھ کی ٹھیکیداری کا دعویٰ کرنے والی یہ باپ بیٹے کی جوڑی بیرون ملک پاکستانیوں کے ہاتھو اپنی عزت افزائی کروا کر بھی سیر سپاٹوں اور مسخریوں میں مصروف ہے 
.

There are Over six Thousand Ghost Schools in Sindh
تعلیم کا یہ حال کے صوبے میں کم از کم چھہ ہزار گھوسٹ سکول ہیں جہاں یا تو الو بولتے ہیں یا وڈیرے کی اوطاق کے طور پر استعمال ہوتے ہیں. اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سندھ کے دونوں ٹھیکیدارو نے نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیا ہے.  چالیس ہزار سے زاید اساتذہ غایب ہیں، جن میں سے بیشتر بیرون ملک مقیم ہیں اور تنخواہ لے رہے ہیں. اندروں سندھ کا تو کیا کہنا صرف کراچی جیسے شہر میں ہی سو کے قریب گھوسٹ اسکول موجود ہیں. ٹھٹھہ جو پرانی تہذیب میں کبھی مرکزی علم کدہ تھا، پچھلے چند سالوں میں سات سو انتیس سکولوں سے ہاتھ دھو بیٹھا جن میں ڈیڑھ سو سے زاید گھوسٹ سکول تھے










More than 400 sham appointments in KU and over 200 illegal up-gradations
کراچی یونیورسٹی میری اپنی مادر علمی ہے. اس کے وسائل کو جس طرح دونو ہاتھو سے لوٹا جا رہا ہے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے. اس میں سندھ کے شہری اور دیہی دونو ٹھیکیدار شامل ہیں. صرف کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ چند سالوں کے دوران چار سو سے زیادہ غیر ضروری اور غیر قانونی بھرتیاں کی گیئں. اس کے علاوہ دو سو سے زاید "اپگرڈیشن " کے کیسز ہیں جن میں اپنے منظور نظر اور پارٹی کارکنان کو جعلی ڈپلوموں پر چھٹے ساتویں اسکیل میں کمپیوٹر آپریٹر بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر چالیس پچاس ایسی بھرتیاں ہونے کے بعد انتہائی مکّاری سے اس پوسٹ کا گریڈ بڑھا کر پندھرواں سولہواں کر دیا جاتا ہے. ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گرانٹ ویسے ہی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے یونیورسٹی کے وسائل پر یہ چھہ سو سے زائد غیر ضروری غیر قانونی بھرتیاں انتہائی خوفناک اور مجرمانہ بوجه ہے. طریقہ واردات یہ کے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود یونیورسٹی کا چانسلرحاضر سروس پروفیسر کے بجاے ریٹائرڈ پروفیسر اپاینٹ کیا جاتا ہے جس کے ذریے من مانی کرنا آسان ہو جاتا ہے. اس پر تفصیل کبھی اورصحیح  .


Picture is a Million words
اور پھر پی پی اور پی کے متوالوں سندھ کے ٹھیکیداروں کی بے حسی. وزیر اعلیٰ کے نام پر جو بے ہوش سی چیز سندھ پر مسلط ہے، ان سے کچی شراب پی کر زندہ و جاوید ہونے کے ٹوٹکے سنیے ، بیہودہ قسم کی تاویلیں سنیے اور اپنا سر دھنیے. شرجیل میمن صاحب فرماتے ہیں روز پاکستان میں لوگ مرتے ہیں تھر میں دو لوگ مر گئے تو واویلہ کس بات کا. میری سمجھ سے باہر ہے کے ان بے حس لوگوں کا کیا کریں. ذرا کھڑکی کھول کر دیکھئے صاحب، مٹھی تھرپارکر اور سندھ کے دیگر علاقے زیادہ دور نہیں. صرف کراچی میں چھہ ہزار سے زاید ٹارگٹ کلنگز ہو چکیں، انسانیت سسک رہی ہے اندروں سندھ، کبھی بھوک کے آگے کبھی آپ جیسے بے حس ٹھیکیداروں کے آگے. زندہ ہے تو صرف بھٹو ، وہ بھی آپ کے نعروں میں .

گدھ کی طرح لاشوں پر جینے والوں نے اس عظیم خطے کے لوگو کو سواے بھوک، ننگ، کھلی چھت ، بیماری، افلاس، خوف اور جہالت کے کچھ نہیں دیا. کسب کے لئے نسب بدلنے والے بےحس ٹولے کے محلات کی فہرست ہے کے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے. گلہ پھاڑ پھاڑ کر چلانے سے نہ جھوٹ سچ بنتا ہے نہ گیدڑ لیڈر بنتا ہے 
.

ہسپتال خستہ حال اور گھوسٹ بھرتیوں سے بھرے پڑے ہیں. کراچی سمیت پورے سندھ میں جعلی سندوں پر کئی افراد بیک وقت ایک سے زیادہ جگا بھرتی ہیں. کوئی ہسپتال میں بھرتی ہو کر کسی سرکاری ادارے میں مالی ہے، کہیں پرائمری سکول ٹیچر تو کہیں نائب قاصد. حاضری کہیں بھی نہیں. غریب مظلوم عوام ہسپتالوں میں جعلی دواؤں اور ناکافی بلکہ خستہ ترین حالات میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں. گشتہ کئی دہایوں کی تاریخ میں سندھ میں پولیو کیسز آسمان سے باتیں کر رہے ہیں. گھوسٹ ڈاکٹروں کی ایک لمبی فہرست ہے


نام نہاد پروگریسو جماعت کا یہ حال ہے کہ ان کی مرکزی رہنما اور بدقسمتی سے سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر جگہ جگہ مذہبی منافرت پھیلاتی نظر اتی ہیں.اقلیتوں کی صورت حال نہ گفتہ با.

بھٹو کی جماعت کا آج یہ حشر ہے کے سکڑ کے سندھ کے چند دیہی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گی ہے اور اس کی حیثیت ایک صوبے کی جماعت سے زیادہ کچھ نہیں.نہ صحت ، نہ تعلیم نہ تحفظ نہ امن و امان، صرف آپسی گٹھ جوڑ اور عوام کا استحصال. سندھ کے مجبور عوام بھٹو سے عقیدت کی قیمت اسی بھٹو کے نام لیوا دھاری داروں  کو ادا کر رہے ہیں.  وہ بھی شاید صرف اس لئے کے آج تک انہیں کوئی للکارنے والا آیا ہی نہیں.بندر بانٹ کا یہ عالم ہے کے ایک نے پنجاب پر قبضہ کر لیا ، ایک نے سندھ پر اور مزید ظلم ایک جماعت دیہی سندھ کی ٹھیکیدار بن بیٹھی اور ایک شہری. شہری علاقے گینگ وار اور لینڈ مافیا کی نظر ہو گئے، اور دیہی بھوک افلاس، بیماری، جہالت اور ڈاکو راج کی 
.

ان حالات میں ضرورت اس بات کی تھی کے سندھ کے پسے ہوے لوگوں کے لئے کوئی متبادل سامنے آتا جو پاکستان کے وسائل پر قابض مسائل کی جڑ سٹیٹس کو کی نمائندہ جماعتوں کے آپسی معاہدوں اور مفاہمتوں کے ہوتے ہوۓ ممکن ہی نہیں تھا. تحریک انصاف سے آپ لاکھ اختلاف کریں ، مگر یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ اس نے کئی دہایوں کی   اس بندر بانٹ کو توڑنے کی بات کی ہے اور تمام صوبوں میں مقبول ایک قومی جماعت کے طور پر سامنے آئ ہے. آج کپتان کی اس جماعت نے سندھ کا رخ کیا ہے اور سندھ کے ٹھیکیداروں کے قلب میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ٹھانی ہے. وہ کامیاب ہوگا یا نہیں، وہ تو اکیس نومبر کو پتا چل ہی جاےگا مگر اس اعلان کے بعد پینترے بازی، ٹھنڈے مزاج، چالاکی شاطری کے لئے شہرت یافتہ زرداری صاحب اور ان کی جماعت کے سرکردہ لیڈران کی بدحواسی قابل دید ہے.
21st November Larkana Jalsa can be a Game changer in Sindh
خبریں ہیں کے وہاں لوگو کو دھمکایا جا رہا ہے، جلسہ گاہ کے لئے ٹرانسپورٹ اور محل وقوع کے لحاظ سے لاڑکانہ کے نسبتاً دشوار علاقے کی اجازت دی گئی ہے. بہرحال جلسہ تو ہونے جا رہا ہے اور بحیثیت پاکستانی مجھے خوشی ہے کہ یہ سندھ کی سیاست میں تاری جمود کو توڑنے کی طرف پہلا قدم ہے. ان بے حس لوگوں نے سندھ کا جو حال کیا ہے ہوش محمد شیدی شہید کی روح ان شعبدے بازوں کے منہ سے مرسوں مرسوں سن کر تڑپتی ہوگی.  جس بے دردی کے ساتھ سندھ کے لوگوں کا استحصال کیا گیا اب وقت ا گیا ہے کے بھٹو کا کفن بیچنے والوں، زبان رنگ نسل اور مذہب کے بیوپاریوں کی رہی سہی دکان بھی ٹھکانے لگے.قطع نظر اسکے کہ بھٹو سے لوگوں کا رومانس اب بھی ہے یا نہیں ،باپ بیٹے کےٹولے نے بچی کچی پیپلز پارٹی کو بلاول ہاؤس میں دفن کر دیا ہے
 

.

Sunday, 31 August 2014

Jamhuriat Chali Jayegi




جمہوریت چلی جاےگی

تقویم احسن صدیقی 


زباں بند رکھو جمہوریت چلی جاےگی
اپنے ہاتھ کٹوا رکھو کہ جمہوریت چلی جاےگی

ظلم نہ انصافی ، جھوٹ مکاری، بے ایمانی بدمعاشی
سب سہو مرے بھائی  کہ جمہوریت چلی جاےگی

جو کبھی تکلیف ہو حق گوئی کی تو زباں سی رکھو
خبردار یہ سلایی نہ کھلے کہ جمہوریت چلی جاےگی

ہوشیار، حد ادب  ، نگاہ رو برو سانس اندر
نازک ہے بہت جمہوریت، چلی جاےگی

یہ بغاوت کی باتیں، یہ اصولوں کا بخار، یہ سر اٹھانے کی ترغیب 
کہنے کی ہیں بھائی، عمل پیہم برطرف، جمہوریت چلی جاےگی

واعظ تیرے اندیشے ، تیری جمہوریت، تیرا   وعظ جو سنوں
پیاری ہے مجھے جو عزت نفس ، وہ چلی جاےگی

Friday, 20 June 2014

Mian Gullu Shareef



میاں گلو شریف


تقویم احسن صدیقی


شیر درندہ ہی تو ہے. اور درندے سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے؟ مگرٹھریئے ، درندہ بھی اس وقت تک درندگی پر نہیں آمادہ ہوتا جب تک اس کا پیٹ خالی نہ ہو. بھوکا شیر تو سنا ہے مگر پیٹ بھرا شیر شکار کرتے نہ سنا نہ دیکھا. تو یہ کون سے درندے ہیں کون سے جانور ہیں جن کے پیٹ حلق سے اوپر تک بھرے ہیں ، جن کی ہوس کی تسکین سے بھی کیی گنا زیادہ سامان ان کے پاؤں کی جوتی ہے مگر درندگی ہے کے بڑے سے بڑا خونخوار درندہ بھی ان کے آگے ہیچ. یہ پیٹ بھرے سفاک بے حس حکمران یہ شریف زادوں کے بھیس میں رذیل قاتل ظالم لوگ جن کے سینوں میں دل نہیں سیسہ دھڑکتا ہے، نہ جانے کچھ دھڑکتا بھی ہے یا نہیں کیونکے یا تو یہ جاندار نہیں یا بے حس مردے ہیں.

سنا ہے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، جن ماؤں بہنوں بیٹیوں بزرگوں کی عزت، جان اور بزرگی کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کے سپرد ہے وہی ریاست خونخوار بھیڑیے کی طرح انہیں لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹتی رہی اور ان کے لہو سے اپنی وحشت کو جلا دیتی رہی.جی ہاں وہی پنجاب پولیس جو سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت درختوں اور دیواروں کی اوٹ میں گیدڑ بنی چھپی رہی. اس کشت و خون کی زمداری جن پر عائد ہوتی ہے انہو نی خود کو لا تعلق کر کے ہر چیز سے مبرّا کر لیا اور لگے کسی گللو کسی رانا  طارق یا اور کسی اپنے پالتو کارندے کی گردن ڈھونڈنے. اور وہ بھی اس لئے کہ سب کچھ لوگوں نی براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھا. بےشرمی کا یہ عالم ہے کے ان کے تمام گماشتے اور حمایتی پوری تندہی اور بےغیرتی سے اس معاملے کی صفائیاں پیش کرنے میں لگے ہیں. قادری صاحب سے میں ذاتی طور پر انتہایی اختلاف رکھتا ہوں، ان کے طرز سیاست سے بلکل غیر متفق ہوں، پچھلے سال کے ان کے دھرنے پر میری تحریر "ششماہی تماشے" اور گاہے بگاہے ان پر تنقید سے یہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے. مگر میں اتنا بے حس نہیں نا ہی اتنا حوصلہ ہے مجھ میں کہ مظلوم کی آہ اور معصوم خون کو میں اپنی سیاسی، مذہبی اور ذاتی پسند نہ پسند کی کسوٹی پر پرکھوں. ماؤں بیٹیوں بہنوں بزرگوں اور اپنے ہی بھایوں کا خون بہتا دیکھوں اور صرف اس لئے خاموش رہوں کے ان کا تعلق شاید قادری صاحب سے ہو. اور جس دن ایسا کروں اس روز میرے ہونے پر حیف. آی
ۓ کیجیے ہمّت اور دے ڈالئے دلائل اس کھلے ظلم کے حق میں پر لب کشایی سے پہلے سوچنا ضرور کے ماڈل ٹاون کی سڑکوں پر گھسیٹی جانے والی ان ماؤں بہنوں جن کے آنچل جن کی ردا سفاک پنجاب پولیس کے ہاتھوں اپنی پامالی کا نوحہ پڑھتی تھیں، کی جگہ آپ کی مائیں بہنیں یا بزرگ ہوتے( اگر آپ ان کو اپنا نہیں سمجھتے تو) تو کیا تب بھی اس بد ترین درندگی کے حق میں کوئی عذر تلاش کرتے؟

بھوک سے جان دیں،افلاس سے مریں ، سیلاب میں ، زلزلے میں ، دہشت گردی میں یااپنے ہی نام نہاد خادموں کے غلاموں کی بندوقوں کا نشانہ بنیں ، ہم پاکستانی عوام ، اب خواص کے لیے محظ اعداد بن کے رہ گئے ہیں.  یا شاید اپنی یہ بے توقیری ہم نے خود کی ہے،  پچھلے کیی برسوں سے شاید اپنے انجام کو ہم خود تحریر کر رہےہیں. دم تحریر پنجاب کے شہباز کا دست راست "گلو بٹ" ذہنی کوفت اور اشتعال کی ماری عوام کے ہاتھوں ماڈل ٹاؤن کچہری میں اپنی درگت بنوا رہا تھا. میں نہیں جانتا یہ غصہ گلو پر تھا یا گلو اور اس جیسے سینکڑوں بدمعاشوں کے سرپرست اعلیٰ، شریف اور کشکول شکن خادموں پر تھا. مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کے خادموں اور شریفوں کا پچھلا ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ "اس" گلو کی کہانی ختم، اب نیا گلو تیار ہوگا. میرے لوگ بھی کیسے بد نصیب ہیں، ان ہی گلوں سے ڈرتے ہیں، انہی سے پٹتے ہیں اور انہی کے دھمکانے میں آ کر ان کے سرپرستوں اور اپنے قاتلوں لٹیروں کو اپنے سر پر بٹھاتے ہیں. گلو بٹ تو بس ایک پیادہ تھا، سوال یہ بنتا ہے کے جب یہ گلو بٹ اپنے آقاؤں کے اشارے پر وہ کر رہا تھا جو سب نےدیکھا تب اسی سے دو فٹ دور سینکڑوں پنجاب پولیس کے اہلکار کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے یا نہتے اور کمزوروں پر اپنی طاقت آزما رہے تھے ان پولیس اہلکاروں کا کیا؟ ان پولیس افسروں کا کیا جو اس گلو کو تھپکیاں دے رہے تھے؟ ان نام نہاد خادموں کا کیا جن کی ناک کے نیچے آٹھ گھنٹے تک لاہور میں ہونے  والا کشت و خون کا وحشت ناک کھیل جاری رہا؟ کہتے ہیں ہمیں خبر ہی نہ ہوئی. بےشرمی اور ڈھٹائی کی کوئی حد ہے؟ ارباب اختیار کا اس آگ و خون کی ہولی پر چپ سادھ لینا صرف دو ہی صورتوں میں ممکن ہے ، پہلی یہ کے واقعی یہ بےخبر رہے یا یہ کے یہ سب ان کے اشارے پر ہوا. دونو صورتوں میں ان نام نہاد خادموں کی ذمہ داری بنتی ہے اور گر تھوڑی سی بھی غیرت نام کی چیز باقی ہو تو کم از کم استعفی بنتا ہے. مگر کیوں دیں استعفی؟ میں نےسنا کوئی صاحب کل ٹی وی پر فرما رہے تھے کے بنو جیل ٹوٹنے پر خٹک صاحب نے تو استعفی نہیں دیا، تو شہباز کیوں اپنے ہی پر کاٹ لے؟ بنو جیل کے ٹوٹنے اور ریاست کی طرف سے کی جانے والی کھلی دہشت گردی میں کیا فرق ہے اسے قارئین پر چھوڑے دیتے ہیں.

میرے لوگوں کبھی سوچا ہے کہ ہم پر روز ظلم ہوتا ہے اور ہر آنے والا دن پچھلے سے سخت اور ہونے والا واقعہ پچھلے سے زیادہ شرمناک اور وحشت ناک ہوتا ہے پر نہ زمین ہلتی ہے نہ آسمان ٹوٹتا ہے؟   جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ تم ہی ان اوسط سے بھی نیچے لوگوں کو سر پر بیٹھا کر فرعون بناتے ہو، تم ہی ان کے جرم پر صرف اس لئے پردہ ڈالتے ہو کے یہ تمھارے آقا اور تم ان کے غلام، ہاں یہ ہم ہی ہیں جن کے سروں کو کچل کر جن کے خون میں نہا کر یہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں، ہاں یہ ہم ہی ہیں جن کو اپنے ہی ہم وطنوں کا بہتا خون صرف خون نہیں بلکہ مولوی خون، لبرل خون، علاقائی خون، شیعہ سنی بریلوی دیوبندی خون دکھتا ہے. غضب خدا کا آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں اپنے ہی لوگوں کا بہتا ہوا یہ اپنا نہیں بلکہ قادری صاحب کے لوگوں کا لگ رہا ہے. جس وحشیانہ انداز میں لوگوں پر ظلم ہوا وہ سب نے دیکھا، آخری خبریں انے تک بارہ لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اسسی سے زاید شدید زخمی ہیں. کہ دو یہ بھی بیرونی سازش ہے. جو آنکھ اس ظلم کو دیکھ کر اشکبار نہ ہو، جو دل اس وحشت پر تار تار نہ ہو جس جگر میں اس سفّاکی کے حق میں دلائل دینے کی ہمّت ہو اس کا زندہ ہونا نہ ہونا برابر، اس کی دعا بد دعا بے اثر ، اس کی کوشش اور خواہش بے ثمر اور اس کی پکار بے ضرر. یاد رکھیں یہ سب کچھ اس وقت تک نہیں بدل سکتا جب تک ایک انسانی جان کی اہمیت ہمارے نزدیک ہر قسم کی سیاسی، مذہبی، اخلاقی ، اور اس جیسی کیی لغو وابستگیوں سے بالا تر نہ ہو جائے. کیا تم نے نہیں دیکھا کے کیسے ادھ مرے گولی کھاے لوگوں کو بھی ان لوگوں نے لاٹھیوں سے دھنکا، تمہیں نظر نا آئین  وہ مائیں بہنیں جن کی ردا کو ان ظالموں نے بوٹوں کی نوک پے رکھا جو ان بھیڑیوں سے جان کی امان مانگتی بے امان کبھی ادھر کو بھاگیں کبھی ادھر پناہ لی مگر ان ظالموں نے گولیوں اور لاٹھیوں سے ان کے سر پھاڑ ڈالے؟ تم نے کیا کیا نہ دیکھا، مگر تم نے منہ کھولنے کی ہمّت بھی نہ کی. منہ کھولا تو اپنے آقاؤں کے ظلم و جبر کی صفایاں دینے کے لئے. ہم کیسے توقع کرتے ہیں کے ہم انسانیت کی تذلیل ہوتے دیکھتے رہینگے اور ہمارا رب ہمیں ان ظالموں اور قاتلوں سے بچا لے گا؟

میں ان بے قصوروں کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کروں؟ متعلقہ اداروں کے بے حس ذمہ داران، ڈھیٹ، ظالم اور بے غیرت سیاست دان جن کے نزدیک ہماری جان کی قیمت چند لاکھ اور دو بیانات سے زیادہ نہیں یا اپنی قوم کے اس طبقے کے ہاتھ پر جو ذلت پر ذلت اٹھا رہے ہیں مگر غلامی چھوڑنے کو تیار نہیں. بات جو بھی ہو، ہم خود اپنے مجرم ہیں. لوگوں جان لو کے ان سانپوں کو دودھ ہم نے ہی پلایا ہے، ہمارے ہی پیسوں پے پل کے آج یہ اژدہے بنے ہمیں ہی کاٹ مار رہے ہیں. اور جتنی جلدی یہ قوم پوری یکسوئی کے ساتھ اس بات کو سمجھ لے اتنا بہتر ورنہ ہم جسے بیوقوف تو یہ جانتے ہیں کے یہ سب باطل ہے اور قران کہتا ہے کہ باطل تو ہے ہی مٹ جانے کے لئے. ظلم کا مٹ جانا تو لکھ گیا ہے اب یہ ہم پر منحصر ہے کے ہم کتنی جلدی اس بات کو سمجھتے ہیں اور اپنا نام تاریخ کے پنوں پر کہاں لکھواتے ہیں. کچھ کر نہیں سکتے تو کم از کم جو آواز اٹھے اس میں اپنی آواز ہی شامل کر لو، یہ بھی نہ کر سکو تو کم از کم دل میں ظلم کو ظلم تو مانو، اور اگر دل سے ظلم کو ظلم ماں لو تو یہ ممکن ہی نہیں کے باطل کے حق میں تاویل کا ایک لفظ بھی کسی بھی مصلحت کا لبادہ اوڑھے زبان سے پھسل جائے. یہی فطرت ہے ، یہی انسانیت اور یہی دین، باقی سب منافقت.

Thursday, 30 January 2014

BBC Newsnight Latest Report on MQM Imran Farooq Murder Case 29th Jan 2014


BBC Newsnight Latest Report on MQM Imran Farooq Murder Case 29th Jan 2014


 


(Source: BBC) Owen Bennett-Jones reports on the developments in the case of Imran Farooq's murder

UK prosecutors have asked Pakistan to trace two suspects believed to have been involved in the 2010 murder of Imran Farooq, a senior leader of the Muttahida Qaumi Movement (MQM). He was stabbed outside his home in Edgware, London, close to the Pakistani political party's international HQ.

Documents obtained by BBC Newsnight name the suspects as Mohsin Ali Syed and Mohammed Kashif Khan Kamran.

They are believed to be in Pakistani custody but not under formal arrest.

The investigation into Mr Farooq's murder has seen more than 4,000 people interviewed, but so far the only person arrested in the case has been Iftikhar Hussain, the nephew of MQM's London-based leader Altaf Hussain.


Friday, 27 December 2013

Imran Ismail's Response to Bilawal and Shehla Raza's Non Sense

 
 

پیپلز پارٹی جیسی سیاسی لاش کو غسل دینے کے لئے چار لوٹے پانی ہی کافی ہے